Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس، ایک لفظ میں، یہ ہے کہ جن باتوں پر انھیں صبر کرنا تھا ان پر وہ لڑ رہے ہیں، اور اس کو غلط طور پر جہاد کہتے ہیں۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کو دوسروں کی طرف سے زیادتیوں کا تجربہ ہوگا۔ اہل ایمان کو لازماً ایسا کرنا ہے کہ وہ مسائل سے اپنی نظریں ہٹائیں اور اپنی ساری توجہ صرف فرض کی ادائیگی پر لگا دیں۔ صبر کا کرشمہ 23 جولائی 1993 کو میں نے جمعہ کی نماز دہلی کی مسجد سنگ تراشان (پہاڑ گنج) میں پڑھی۔ اس مسجد کے چاروں طرف صدفی صد ہندوؤں کی آبادی ہے۔ 1947 کے بعد یہ مسجد بند ہوگئی تھی ۔ یہاں محلہ کے لوگ کوڑا ڈالا کرتے تھے۔ 1982 میں دہلی کے ایک مسلمان جناب محمد سعید بلالی (پیدائش 1953) کو خیال ہوا کہ اس مسجد کو وا گزار کیا جائے۔ انھوں نے کوشش کر کے اس مسجد کو کھلوایا۔ اس کی صفائی اور مرمت کرائی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس کو آباد کس طرح کیا جائے، کیوں کہ یہاں قریب میں کوئی مسلمان نہیں۔ چنانچہ انھوں نے ایک استاد رکھ کر یہاں ایک مدرسہ قائم کر دیا۔ دو درجن مسلمان بچے یہاں رہنے اور پڑھنے لگے۔ اس طرح یہاں پنج وقتہ نماز قائم ہوگئی۔ محمود سعید بلالی صاحب نے اپنے واقف کاروں کے حلقہ میں اس مسجد کے بارے میں بتایا تو جمعہ کے دن کافی لوگ یہاں آنے لگے۔ یہاں تک کہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ بلالی صاحب نے طلبہ اور نمازیوں کی سہولت کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ صحن کے نصف حصہ میں چھت ڈال کر ایک سائبان بنا دیا جائے۔ انھوں نے کام شروع کرا دیا۔ سانچہ بن گیا اور اس پر چھت کی تعمیر کی جانے لگی۔ یہ 19 مارچ 1991 کا واقعہ ہے۔ اچانک تقریباً ڈیڑھ سو ہندو جمع ہو گئے جن میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page