کامیاب فارمولہ
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دیجیے۔ نو جوان نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ اپنے گھر گیا تو اس کے باپ نے اس کو ڈانٹا۔ بیٹا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے باپ کے قدموں پر گر پڑا۔ اس کے بعد باپ کا جذبہ پدری ابھر آیا۔ اس نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ چند منٹوں کے اندر ساری بات ختم ہو گئی۔ ایک بار ڈاکٹر صاحب ایک شہر میں گئے۔ وہاں کے مسلمانوں نے بتایا کہ جلد ہی یہاں کٹر ہندوؤں کا ایک جلوس نکلنے والا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ زبردست تیاری کر رہے ہیں۔ وہ اپنا جلوس مسلم محلہ سے لے جائیں گے اور کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر فساد کریں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ میرا ایک مشورہ مان لیجیے اور پھر یہاں کوئی فساد نہیں ہوگا۔ آپ لوگ ایسا کیجیے کہ جس دن جلوس نکلنے والا ہو، بازار سے دو درجن پھولوں کے ہار لے آئیے۔ جب ان کا جلوس آپ کی مسجد کے سامنے پہنچے تو آپ لوگ پھولوں کا ہار لے کر باہر آئیں اور جو ہندو جلوس کے آگے آگے چل رہے ہیں ان سے کہیں کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں اور پھر ان کے گلے میں ایک ایک ہار ڈال دیں۔ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ جس دن وہاں ہندو مسلم ٹکراؤ ہونے والا تھا وہ ان کے لیے ہندو مسلم ملاپ کا دن بن گیا۔ ایک بار بنگور میں وہ اپنے گھر کے قریب سڑک پر چل رہے تھے۔ پیچھے سے شہر کے ایک ہندو کی گاڑی آئی جو مسلمانوں کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ اس کی گاڑی ڈاکٹر صاحب سے ٹکرا گئی اور ڈاکٹر صاحب سڑک پر گر پڑے۔ ان کو کئی جگہ زخم آئے۔ مذکورہ ہندو اپنی گاڑی روک کر ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ آپ میری گاڑی پر بیٹھ جائیں میں آپ کو لے کر اسپتال چلتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ تم فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔ یہ مسلم علاقہ ہے۔ مسلمانوں نے اگر تم کو دیکھ لیا تو وہ تم کو مارے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے سخت اصرار کر کے اس کو وہاں سے بھیج دیا۔ اس کے بعد مذکورہ ہندو ہمیشہ کے لیے ڈاکٹر صاحب کا دوست بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader