Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر سلطان کے دل میں کسی کے لیے نفرت نہ تھی۔ وہ ہر ایک کو پیار و محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذکورہ کامیاب فارمولہ اپنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مگر نادان لوگ نفرت کو سب سے بڑا ہتھیار سمجھ لیتے ہیں۔ ایک مثال یہ غالباً 1981 کی بات ہے۔ ایک مسلم نوجوان مجھ سے دہلی میں ملا۔ وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے رونے لگا۔ وہ تعلیم یافتہ تھا اور اس کے پاس ایک اچھا جاب تھا مگر کسی وجہ سے اس کا جاب اس سے چھوٹ گیا۔ اس حادثہ سے وہ اتنا مایوس ہوا کہ اس نے بتایا کہ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ میں خودکشی کرلوں۔ میں نے کہا کہ یہ تو مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ ابھی آپ نوجوان ہیں اور ان شاء اللہ آپ بہت دن تک کام کریں گے۔ پھر آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے ان سے ان کی ڈائری مانگی اور اس پر یہ جملہ لکھ دیا: باغ کا مالی کبھی ایک پودے کو اس کی جگہ سے اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کو زیادہ بہتر جگہ پر لگائے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ خلیج کے ملکوں میں سے کسی ملک میں جائیے اور وہاں کام حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ وہ ایک عرب ملک میں گئے اور کچھ دنوں بعد لوٹ کر آئے اور بتایا کہ وہاں مجھ کو کوئی کام نہیں ملا۔ میں نے کہا کہ کوشش صرف ایک بار نہیں کی جاتی ، بلکہ بار بار کی جاتی ہے۔ میرے اصرار پر وہ دوبارہ گئے۔ اب وہاں ان کو ایک اچھا کام مل گیا ہے۔ تقریباً بیس سال سے وہ وہاں ہیں اور نہایت کامیاب ہیں۔ اس طرح کے کثیر واقعات ہیں جو آدمی کو یہ سبق دیتے ہیں کہ کوشش کے بعد اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page