Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کوئی دبنے یا جھکنے کی بات نہیں ، بلکہ وہ حسن تدبیر ہے۔ ذاتی معاملے میں ہر آدمی اسی تدبیر کو اختیار کرتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ملی معاملے میں بھی اس کو اختیار کر لیا جائے ۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر موجودہ حالت کو ختم کرنے والی نہیں۔ شام کے بعد صبح ایک شخص نے کہا کہ شام ہو گئی۔ دوسرا شخص بولا : یوں کہو کہ صبح آنے والی ہے۔ اگر آپ معاملات کو حال کے اعتبار سے دیکھیں تو بظاہر ہر آپ کو تاریکی دکھائی دے گی ۔ لیکن اگر آپ معاملے کو مستقبل کے اعتبار سے دیکھیں تو سامنے کے افق پر روشنی ابھرتی ہوئی نظر آنے لگے گی۔ بیشتر لوگوں کی نظر اپنے آج پر ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ان کے آج کے حالات اچھے نہ ہوں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھیں اچھی زندگی حاصل نہیں۔ حالاں کہ عقلمندی کی بات یہ ہے کہ آنے والے کل پر نظر رکھی جائے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ اکثر آنے والا کل ایسے مواقع لے کر آتا ہے جس کو اس سے پہلے آدمی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ زمین ہر لمحہ گھوم رہی ہے۔ زمین کے اوپر بار بار شام بھی آتی ہے اور صبح بھی طلوع ہوتی ہے۔ جن لوگوں کی نظر صرف قریب پر ہو، وہ جب شام کو دیکھیں گے تو کہہ دیں گے کہ اب تو زندگی کی شام آگئی۔ مگر جو لوگ دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ، وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ شام کو شام کے اعتبار سے نہ دیکھو ۔ اس کو اس نظر سے دیکھو کہ وہ آنے والی صبح کی تمہید ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی ناموافق صورت حال پیش آئے تو وہ ایک نئی موافق صورت حال کی تمہید ہوتی ہے۔ وہ ایک نئے مستقبل کی خبر دیتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنے ذہن کو استعمال کرے۔ وہ اپنی سوچ کو حرکت میں لا کر آگے بڑھ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page