Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں آدمی جو کچھ پتا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو اس نے نہیں پایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے کو کھو کر زیادہ کو پانے کا موقع پھر بھی آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔ آدمی ذرہ کو کھو کر افسوس کرتا ہے حالانکہ ابھی پورا پہاڑ اس کے حوصلوں کے امتحان کے لیے موجود ہے۔ وہ ایک قطرہ سے محرومی پر فریاد کرتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ ابھی تو خدا کی دنیا میں پورا سمندر باقی ہے جس کو پانے کے لیے وہ از سر نو اپنی کوششوں کو جاری کر سکے۔ دنیا میں کوئی کھونا آخری کھونا نہیں۔ ہر کھونے کے بعد پانے کا نیا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو کھونے کو بھلا دے، وہ ہمیشہ پانے کی طرف دیکھتا ہے۔ نادانی اور دانش مندی نادان نے کہا کہ میں نے اپنے ماضی اور حال کو برباد کر دیا۔ دانش مند بولا، مگر مستقبل تو بر باد نہیں ہوا ــ آدمی کی زندگی صرف ماضی اور حال کے اوپر ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کی لمبی زندگی میں مستقبل بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ پھر کوئی شخص ماضی اور حال کے کھونے کا غم کیوں کرے، جب کہ مستقبل اب بھی آپ کے پاس پوری طرح موجود ہے۔ کوئی شخص اپنے گزرے ہوئے دنوں کو گنوا سکتا ہے۔ مگر اس کے آنے والے دن تو اب بھی اس کے پاس باقی ہیں۔ اگر آدمی اپنے احساس کی شدت کو پچھلے دنوں کی تلخ یاد میں نہ لگائے بلکہ اس شدت کو آنے والے دنوں کو استعمال کرنے میں لگا دے تو ہو سکتا ہے کہ پہلے اس نے جو کچھ کھویا ہے، اس کو وہ آئندہ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کر لے۔ ماضی آپ کے ہاتھ سے نکل چکا، حال بھی آپ کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ اب جو چیز آپ کے پاس باقی ہے وہ صرف آپ کا مستقبل ہے۔ آپ بیتے ہوئے دن یا جانے والے لمحات کا غم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page