ناکامی نہیں
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ لوگوں نے کہا کہ: الضَّيِّقَةُ (مشکل)۔ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام الْيُسْرَى (آسان) ہے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 482)۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ طرز فکر کو بتاتا ہے۔ پیغمبر دنیا کی ہر چیز کو خدا کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو مشکل بھی آسانی کے روپ میں دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ خدا نے اپنی دنیا کو اسی قانون کے تحت بنایا ہے کہ یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہمیشہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کو اپنے وطن میں سخت ترین مشکل سے سابقہ پیش آیا۔ اس کے باوجود آپ نے دنیا کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک ایسا مسلم واقعہ ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول کی زندگی میں تمہارے لیے اسوہ ہے (33:21)۔ یہ اسوہ یا نمونہ کسی محدود معنیٰ میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں ہے۔ آپ نے جس طرح نماز اور حج کا طریقہ بتایا اسی طرح آپ نے اپنے عمل سے یہ بھی بتایا کہ مسائل کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اور مشکل کو آسان کس طرح بنایا جائے۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے عمل سے موجودہ دنیا کے بارے میں اس امکان کی ممتاز ترین مثال قائم کی ہے۔ آپ نے مشکل ترین حالات میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی۔ حتیٰ کہ آپ نے اپنے دشمنوں کو اپنا ساتھی بنالیا۔ آپ نے اپنی مخالف صف کے لوگوں کو اپنی صف میں شامل کر لیا۔ آپ کو اپنے ماحول میں انتہائی ناموافق حالات پیش آئے مگر آپ نے اپنی فراست کے تحت ان کو کامل طور پر اپنی موافقت میں تبدیل کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader