تعمیر حیات
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
کیوں کریں ۔ آنے والے دن جواب بھی پوری طرح آپ کے قبضہ میں ہیں ، ان پر اپنی ساری توجہ لگا دیجیے ۔ یہی ممکن بھی ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی ۔ نادان کی نظر ہمیشہ پیچھے کی طرف ہوتی ہے اور دانش مند کی نظر ہمیشہ آگے کی طرف ۔ نادان آدمی صرف اس کو جانتا ہے جو ہو چکا ۔ دانش مند اس کو بھی جانتا ہے جو ہو سکتا ہے ۔ آپ نادان نہ بنئے ، آپ کوشش کیجیے کہ آپ کا نام دانش مندوں کی فہرست میں لکھا جائے ۔ جب آدمی کے لیے دانش مند بننے کا موقع بھی موجود ہو اور اسی کے ساتھ نادان بننے کا موقع بھی ، تو وہ نادان کیوں بنے ، کیوں نہ وہ دانش مند بننے کی کوشش کرے ۔ وہ تاریکیوں میں کیوں بھٹکے ، جب کہ روشنی کے دروازے بھی اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں ۔ زندگی ایک مسلسل سفر ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف جاری ہے ۔ جو شخص ماضی اور حال میں اٹک کر رہ جائے وہ گویا زندگی کی حقیقت کا انکار کر رہا ہے ۔ اور حقیقت کا انکار کرنے والا خود اپنا انکار کرتا ہے ، حقیقت کو بدلنا اس کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ۔ ناکامی نہیں پیغمبرانہ نگاہ کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ نہیں کو بھی ہے کی صورت میں دیکھتا ہے ۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں کوئی چیز آخری طور پر مشکل نہیں ۔ بلکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی شامل ہے ۔ زندگی کی یہ حقیقت قرآن میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے (94: 6) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ 8ھ میں مکہ سے طائف جاتے ہوئے پیغمبر اسلام ایک ایسے پہاڑی راستہ سے گزرے جو تنگ اور دشوار گزار تھا ۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader