ایک کہاوت
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین سورج کے گرد اپنے لمبے مدار پر ایک سو بار گھومتی ہے تب اس کی سوسالہ تاریخ پوری ہوتی ہے۔ یہی انسان کا معاملہ بھی ہے۔ انسان کو بھی اگر کسی دور کی منزل تک پہنچنا ہے تو اس کو لمبی مدت تک اس کی طرف سفر کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ ایک شخص سماج کے اندر اونچا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو پہلے ضروری جدوجہد کر کے اس کے تمام اسباب جمع کرنے ہوں گے، اس کے بعد ہی اس کو واقعی معنوں میں اونچا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک قوم کو ترقی یافتہ قوم بنانا ہے تو پہلے اس کو تیاری کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا۔ ضروری تیاری کے مرحلوں کو پورا کیے بغیر وہ ایک ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکتی۔ ترقی اور کامیابی ہمیشہ کسی تیاری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پہلے تیاری کی جاتی ہے، اس کے بعد اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ تیاری کے بغیر اس کا نتیجہ پائیں تو موجودہ دنیا میں یہ بالکل ناممکن ہے۔ آپ نتیجہ سے اپنی زندگی کا سفر شروع نہیں کر سکتے۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا تو وہ تیاری سے شروع ہوگا، ورنہ کبھی شروع ہی نہ ہوگا۔ لوگ کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تیاری کو حذف کر کے نتیجہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس طرح جب انھیں نتیجہ نہیں ملتا تو وہ دوسرے شخص سے جلن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ دوسرے شخص کی طرح ضروری تیاری کرتے تو یقیناً وہ بھی اس نتیجہ کو پا لیتے جس کو دوسرے شخص نے پایا ہے۔ اگر آپ سو سال کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو ایک ایک دن کی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ کاغذ کے اوپر آپ کوئی بھی اپنا دل پسند لفظ لکھ سکتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا کو اپنی پسند کے مطابق بنانے کے لیے حقیقی جدوجہد کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader