ایک کہاوت
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
ہرکس، جب آپ صرف ایک کی طرف دوڑیں تو آپ کی دوڑنے کی پوری طاقت صرف ایک کی طرف استعمال ہوگی، اور پھر آپ اس کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف ’’خرگوش‘‘ کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو بظاہر کئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ ہر ایک کو چاہنے لگتا ہے۔ مگر کئی کو پانے کی کوشش میں وہ ایک کو بھی کھو دیتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ اپنی ساری توجہ صرف ایک پر لگاتا تو یقیناً وہ اس کو حاصل کر لیتا۔ اس کی ایک مثال کشمیر کا مسئلہ ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوئی ۔ اس اعتبار سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کشمیر پاکستان کو نہ مل سکا۔ اس کی واحد ذمہ داری پاکستان کے لیڈروں پر جاتی ہے۔ 1947 میں جب برصغیر ہند کی تقسیم ہوئی تو پاکستان لیڈروں نے چاہا کہ وہ حیدر آباد پر بھی قبضہ کریں اور کشمیر پر بھی ۔ حیدر آباد پر اس لیے کہ وہاں کا صدر ریاست مسلمان ہے، کشمیر پر اس لیے کہ وہاں کی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ وہ حیدر آباد کے معاملے میں صدر ریاست کی منطق کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اور کشمیر کے معاملے میں آبادی کی منطق کو۔ یہ گویا دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنا تھا، اور جو لوگ بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑیں، ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں۔ سو برس سو سال کا سفر کبھی اس طرح طے نہیں ہوتا کہ ہم اپنے کاغذی کیلنڈر میں سو سال آگے کا ہندسہ لکھ لیں ۔ جو لوگ حقیقت کے اعتبار سے پیچھے ہوں وہ بڑے بڑے لفظ بول کر آگے نہیں ہو سکتے۔ آگے ہونے کے لیے حقائق کو اپنے مطابق کرنا پڑے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader