تعمیر حیات
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
بنایا گیا ہے، وہ بیٹھنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اور جب وہ چلے گا تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ گرنے کا واقعہ بھی پیش آئے۔ نہ گرنا ٹھہراؤ کی علامت ہے اور گرنا حرکت اور عمل کی علامت۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے گرنے پر شرمندہ نہ ہو بلکہ اس کو اپنی اعلیٰ انسانیت کا ثبوت سمجھے کہ اُس کے ساتھ گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ جب وہ اس طرح سوچے گا تو وہ گرنے کے بعد فوراً اٹھ کر دوبارہ کھڑا ہو جائے گا۔ "نہ گرنا کمال نہیں" کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ نہ چلنا کمال نہیں۔ از سر نو اٹھنا کمال ہے، کا مطلب یہ ہے کہ چلتے رہنا کمال ہے۔ کیوں کہ جو شخص ٹھہرا رہے، وہی گرنے سے بچے گا۔ چلنے والوں کا معاملہ اس دنیا میں یہی ہے کہ وہ بار بار گرتے ہیں اور پھر بار بار اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آدمی جب گرتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھ کر چلنے لگتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ گرنا اس کے لیے نئے حوصلہ کا ذریعہ بن گیا۔ گر کر اس نے دوبارہ اپنے لیے ایک نئی طاقت حاصل کر لی۔ بیٹھنے کے بجائے چلیے، اور چلنے کے بعد جب گریں تو اٹھ کر کھڑے ہو جائیے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ آپ اپنے لیے نئی دنیا نہیں بنا سکتے، اس لیے آپ گرنے سے بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے۔ کیوں کہ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو اسی طرح بنایا ہے۔ تاخیر نہ کہ ناکامی شکست تاخیر ہے، مگر شکست ناکامی نہیں شکست کسی کے لیے ایک درمیانی وقفہ ہے، وہ اس کا آخری انجام نہیں۔ ایسی حالت میں شکست سے مایوس ہونے کی کیا ضرورت۔ زندگی کا سفر کبھی ہمواری کے ساتھ طے نہیں ہوتا۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ آنا لازمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader