Urdu book · تعمیر حیات

ہار کو ماننا

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

ہار کو ماننا اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوٹی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے ۔ ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا دوبارہ جیت کی طرف سفر کرنے کا پہلا قدم ہے۔ اگر آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار کو نہ مانیں تو آپ ہار کے بعد جہاں کھڑے ہوئے تھے، آپ بدستور وہیں کھڑے رہے گئے ۔ آپ نئے سفر کا آغاز کرنے کے قابل نہیں بنیں گے۔ مگر جب آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار مان لیں تو آپ کا سفر فوراً دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہار کو مان لینا اس بات کا اعتراف ہے کہ میں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ اس کے برعکس، ہار کو نہ ماننا گویا یہ کہنا ہے کہ میں مقابلے کی دوڑ میں آگے ہوں۔ اب جو شخص واقعے کے اعتبار سے پیچھے ہو وہ فرضی طور پر اپنے آپ کو آگے سمجھے تو وہ جھوٹے بھرم میں مبتلا رہے گا۔ اور جو لوگ جھوٹے بھرم میں مبتلا ہوں وہ اسباب کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا بہادری ہے۔ اور ہارنے کے بعد ہار کو نہ ماننا بزدیلی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرے ۔ وہ اپنے آپ کو بزدلی کی سطح پر جانے نہ دے۔ اس دنیا میں کبھی ہار ہوتی ہے اور کبھی جیت ۔ بلند انسان وہ ہے جو ہار جیت سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو ہار جیت سے اثر لیے بغیر اپنی رائے قائم کرے ۔ جو لوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں، وہی اس دنیا میں اپنے مقصد تک پہنچتے ہیں۔ جو لوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ زندگی کے طوفان میں گھر کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ جو شخص ہار کو مان لے اس نے گویا ہار میں بھی جیت کا راز دریافت کر لیا ۔ کیوں کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page