Urdu book · تعمیر حیات

ہار کو ماننا

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

باہر کی دنیا میں وقتی طور پر ہارا مگر وہ اپنے اندر کی دنیا میں بدستور فاتح رہا۔ اس نے اپنی عملی شکست کو اپنے ذہن کی شکست بننے نہیں دیا۔ جو آدمی ہار کو نہ مانے اس نے گویا اس معاملے کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ اور جو آدمی اس طرح کسی معاملے کو وقار کا مسئلہ بنا لے وہ غلطی پر غلطی کرتا چلا جائے گا۔ وہ مسلسل ہارتا ہی چلا جائے گا ، اس کے لیے دوبارہ جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔ بوسٹر کا رول فردوسی کا شاہنامہ فارسی زبان کا ایک مشہور رزمیہ ہے۔ اس میں ایران کے رستم اور دوسری شخصیتوں کا پر فخر تذکرہ ہے۔ رستم کے سلسلے میں فردوسی نے کہا کہ یہ میں ہوں جس نے رستم کو رستم بنایا ورنہ وہ ایران کے ایک قصبہ کا ایک معمولی پہلوان تھا: منش کرده ام رستم پہلواں دگر نہ یلے بود در سیستاں فردوسی نے اپنے شعر میں جو بات ذاتی فخر کے طور پر کہی ہے وہ درحقیقت فطرت کا ایک قانون ہے۔ جس طرح والی بال کے کھیل میں ایک بوسٹر ہوتا ہے اور ایک وہ جو والی مارتا ہے، بوسٹر کا کام ہے بال کو آگے بڑھانا اور والر کا کام ہے بال کو آگے لے کر والی مارنا، اس طرح والی بال کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح زندگی کے نظام میں خود خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو بڑھاوا دے اور اس طرح وہ اس کو آگے پہنچادے۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ پیغمبر تک اس سے مستثنی نہیں۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف مصر میں ایک غلام کی حیثیت سے داخل ہوئے پھر وہ جیل میں پہنچا دیے گئے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ انھیں مصر کی حکومت میں اعلیٰ ترین منصب حاصل ہو گیا۔ ان کی یہ ترقی اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page