تعمیر حیات
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
آسانی سے نہیں آتی، کیا تم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ ٹھہرو، سنو، اور جواب دینے سے پہلے غور کرو۔ یہ اقوال اس فطری حکمت کو بیان کرتے ہیں جن کو اختیار کر کے کوئی شخص دنیا میں اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ یہ اقوال کامیابی کی کنجی ہیں۔ کامیابی کی شرط کامیابی کا آدھا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ اس کے لیے بھرپور کوشش کریں، اور اس کا بقیہ تعلق اس بات سے ہے کہ آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جو آپ کی کوشش کو بے نتیجہ کر دینے والا ہو۔ اس طرح کامیابی ایک فٹٹی فٹٹی کا معاملہ ہے۔ جو کچھ کرنا ہے اسے کرنا، اور جو کچھ نہیں کرنا ہے اس سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شہر میں دکان کھولے۔ وہ دکان کو خوب سجائے۔ یہ دکانداری کے سلسلے میں اس کا مطلوب کام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ یہ نا مطلوب کام بھی کرے کہ لوگوں سے لین دین میں خیانت کرے گا، گاہکوں کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آئے تو اس کی دکان داری ناکام ہو جائے گی۔ اسی طرح ایک شخص ڈاکٹری پڑھ کر مطب کھولے۔ وہ ہر قسم کا سامان اپنے مطب میں رکھے ۔ مگر اس کے ساتھ اس کے معاملات اتنے خراب ہوں کہ جو مریض اس کے پاس آئے وہ اس کے خلاف شکایت لے کر واپس جائے ۔ ایسا ڈاکٹر اپنے مطب میں کامیاب نہیں ہوگا کیوں کہ اس نے ایک طرف کرنے والا کام کیا مگر دوسری طرف اس نے نہ کرنے والے کام کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس اصول کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ آدمی کوئی بھی کام کرے اور کسی بھی میدان میں سرگرم ہو، مگر ان دو گونہ شرطوں کو پورا کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader