قدرت کا قانون
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
قدرت کا قانون دو آدمی سڑک پر آمنے سامنے سے گزرے۔ دونوں بائیسکل پر تھے۔ دونوں میں ہلکی ٹکر ہوگئی۔ دونوں کی بائیسکل رک گئیں ۔ اب دونوں میں تکرار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ دونوں آپس میں لڑ گئے ۔ دونوں کو چوٹیں آئیں ۔ اور پھر دونوں کو اپنے گھر جانے کے بجائے ڈاکٹر کے یہاں جانا پڑا۔ اس واقعے میں بائیسکل کی ٹکر سے تو دونوں زخمی نہیں ہوئے تھے، مگر اس کے بعد ان میں جو بحثیں و تکرار ہوئی اس میں دونوں زخمی ہو گئے ۔ اسی بات کو کسی دانا شخص نے ان الفاظ میں کہا ہے: دوسرا شخص کسی آدمی کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا آدمی خود اپنی نادانی سے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیتا ہے۔ غور کیجئے تو ہمارے سماج میں جتنے بھی دنگے فساد ہو رہے ہیں ان سب کا خلاصہ یہی ہے۔ ابتدا میں کوئی معمولی سی بات پیش آتی ہے۔ اس ابتدائی صورت میں اس کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔ مگر اس کے بعد لوگ جذباتی ہوجاتے ہیں۔ اور پھر جوٹکراؤ ہوتا ہے وہ لوگوں کو بڑے بڑے نقصان تک پہنچا دیتا ہے۔ زندگی کا معاملہ سڑک جیسا ہے۔ زندگی کے میدان میں بیک وقت ہزاروں لوگ اپنی اپنی دوڑ لگا رہے ہیں۔ اب قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک آدمی کی دوسرے آدمی سے ٹکر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں برداشت کرکے بات کو وہیں ختم کر دیا جائے ۔ اگر پہلے مرحلہ میں برداشت نہ کیا جائے تو بات بڑھے گی اور پھر یہ ہوگا کہ ابتدائی ٹکر سے تو کسی کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔ مگر اس کے بعد کی لڑائی میں دونوں اپنے آپ کو تباہ کر لیں گے۔ کسی کا قول ہے کہ ” آپ دنیا سے اپنے ناپسندیدہ انسانوں کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader