قدرت کا قانون
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ نباہ کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی تصدیق پوری تاریخ کر رہی ہے۔ جب ایسا ہے تو آپ ناممکن چٹان سے کیوں ٹکرائیں ۔ آپ ممکن میدان میں کیوں نہ اپنا راستہ بنائیں ۔ دنیا میں جس طرح آپ کو رہنا ہے اسی طرح دنیا میں دوسروں کو بھی رہنا ہے۔ دنیا کسی ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ سارے لوگوں کے لیے ہے۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ دوسروں کا وجود بھی اسی طرح تسلیم کیا جائے جس طرح آپ اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو حقوق آپ اپنے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر یہ سوچ پیدا کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ بظاہر کانٹوں سے بھری ہوئی دنیا آپ کے لیے پھولوں سے بھری ہوئی دنیا بن گئی ہے۔ دوسروں کو زندگی کا حق دے کر آپ خود اپنے لیے زندگی کا حق پا لیتے ہیں۔ اور اگر آپ دوسروں کو ان کا حق دینے سے انکار کریں تو سماج میں ایسی خرابیاں پیدا ہوں گی کہ آپ کو خود بھی اپنے حق سے محروم ہونا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی خود اپنے ساتھ خیر خواہی ہے اور دوسروں کے ساتھ بدخواہی خود اپنے ساتھ بدخواہی ۔ اس دنیا میں دینے کا انجام پانا ہے اور چھینے کا انجام کھونا۔ کسی نے کہا ہے کہ انتظار بھی مسئلہ کا ایک حل ہے۔ مگر لوگوں میں انتظار کرنے کا حوصلہ نہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ حال کی محرومی پر نہ گھبراؤ۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں تم اس سے زیادہ اپنے لیے حاصل کر لو۔ اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیجیے ۔ ایک باپ کے یہاں دو بچے پیدا ہوئے ۔ ایک نے اونچی تعلیم حاصل کی۔ دوسرے نے پڑھنے میں محنت نہیں کی۔ وہ جاہل رہ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم یافتہ لڑکے نے ترقی حاصل کی ۔ جاہل لڑکا کوئی ترقی حاصل نہ کر سکا۔ اس کا دوسرا انجام یہ ہوا کہ ایک آدمی کو گھر میں عزت اور بڑائی ملی۔ دوسرا آدمی خود اپنے گھر میں عزت اور بڑائی پانے سے محروم ہو گیا۔ یہ دو سگے بھائیوں کا قصہ ہے ۔ دو آدمی خواہ سگے بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہوں مگر کبھی ایسا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader