Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کے راستہ میں چٹان حائل ہو تو اس کے کنارے اپنا راستہ نکال لیجیے ۔ ٹکراؤ کے ذریعہ جو مسئلہ حل نہ ہورہا ہو اس کا حل صابرانہ تدبیر میں دریافت کیجیے۔ جہاں بولنا بظاہر کارآمد نہ ہو وہاں خاموشی کا اسلوب اختیار کیجیے۔ جو کام جسمانی طاقت کے ذریعہ بنتا ہو انظر نہ آئے وہاں عقل و دانش کی طاقت کو استعمال کیجیے ۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا واحد اصول ہے۔ اس دنیا میں کامیاب وہ ہے جو اس اصول کو دریافت کر کے اسے اپنے حق میں استعمال کرے اور ناکام وہ ہے جو فطرت کے اس اصول کو دریافت نہ کر سکے اور نتیجتاً اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی میں ناکام رہے۔ جلدی نہیں جب میں نوجوان تھا اور یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا تو مجھے یہ شوق ہوا کہ میرے گھر کے آنگن میں آم کا ایک درخت ہو۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ میں آم کا ایک چھوٹا پودا اپنے آنگن میں لگاؤں اور سالوں تک اس کے بڑھنے کا انتظار کروں۔ مگر نوجوانی کے جوش میں میں اس انتظار کے لیے تیار نہ تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اچانک ہی میرے گھر میں آم کا ایک بڑا سا درخت دکھائی دینے لگے۔ وہاں میرا آموں کا باغ تھا۔ اس میں پانچ سال کا ایک درخت تھا جو بڑھتے بڑھتے انسانی قد سے اونچا ہو چکا تھا۔ اور خوب ہرا بھرا تھا۔ میں نے کئی مزدور اس پر لگا دیئے ۔ وہ دن بھر اس کی کھدائی کرتے رہے آخر کار شام کو وہ درخت ایک بڑی چار پائی پر رکھ کر گھر کے اندر لایا گیا اور آنگن میں گڑھا کھود کر اس کو وہاں لگا دیا گیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے بڑا درخت لگا کر پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کر لیا ہے ۔ مگر رات کو سو کر جب میں صبح کو اٹھا تو درخت کے پتے مرجھائے ہوئے نظر آئے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page