Urdu book · تعمیر حیات

مشکل نہیں

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اپنی زندگی میں کئی بار نقصان یا ناکامی سے دوچار ہوا ہوں مگر میں نے ہر بار اسی اصول کو استعمال کیا۔ چنانچہ جب بھی میں نے غور کیا تو میں نے پایا کہ جہاں پر ابہم پیدا ہوا وہیں اس کا حل بھی موجود تھا۔ مثلاً یہ کہ جہاں اوسط درجہ کی محنت سے کام نہ بن رہا ہو وہاں آدمی زیادہ محنت کر کے اپنا کام بنا لے ۔ میں نے ایک بار ایک منظر دیکھا۔ اسکول کے بچے تقریباً ایک سو کی تعداد میں اسکول سے نکل کر سڑک پر آگئے۔ وہ فٹ پاتھ پر چلنا چاہتے تھے مگر تنگ فٹ پاتھ پر وہ بھیڑ کی صورت میں نہیں چل سکتے تھے۔ انھوں نے اپنے استاد کی ہدایت پر یہ کیا کہ دودو کی صورت میں لمبی قطار بنالی اس طرح وہ آسانی کے ساتھ فٹ پاتھ سے گذر گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ وہ پوری سڑک پر پھیل کر ٹریفک کے لیے مسئلہ پیدا کریں۔ ان طالب علموں کے لیے دائیں اور بائیں پھیلنے کا موقع نہیں تھا۔ انھوں نے آگے اور پیچھے پھیل کر اپنا راستہ طہ کر لیا۔ اس واقعے کو دیکھ کر میں نے یہ سمجھا کہ مشکل میں آسانی ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو اس معاملے کو بہت خوبی کے ساتھ بتا رہی ہے۔ سڑک کے سفر کا یہ واقعہ زندگی کے دوسرے معاملات میں رہنمائی دے رہا ہے۔ مشکل میں آسانی کا یہ معاملہ نیچر کا ایک اٹل قانون ہے۔ اس کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ نیچر کا یہ طریقہ ہے کہ جب بھی کہیں ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خود ہی اپنے آپ اس کے حل کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔ وہ ایک خود کار نظام کی طرح مشکل کے ساتھ آسانی لاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جب کسی مشکل صورت حال سے دو چار ہوتا ہے تو نیچر کے پر اسس کے تحت اپنے آپ اس کے دماغ کے ذرات اور زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کی ذہنی دنیا میں ایک نئی بیداری آجاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ زیادہ بڑھی ہوئی سوچ اور زیادہ بڑھی ہوئی طاقت سے آئی ہوئی مشکل کو حل کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page