حقیقت پسندی
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر 1948 میں فلسطین کی جو صورتحال تھی اس میں عربوں کو فلسطین کا بیشتر حصہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت دانش مندانہ پالیسی یہ تھی کہ اس صورتحال کو قبول کرکے یہودیوں سے وہ صلح کرلی جائے جو پچاس برس بعد کی گئی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ ہوتا۔ اس طرح عربوں کے لیے ممکن تھا کہ وہ امن قائم کرکے اپنے تعمیر و استحکام کی جد وجہ شروع کردیں۔ پچھلے پچاس برس میں انھوں نے انصاف کے حصول کے نام پر بے شمار دولت ضائع کی ہے۔ اور لاکھوں قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے۔ قیام امن کی صورت میں ان کا یہ تمام سرمایہ تعمیر و استحکام کے محاذ پر لگ جاتا۔ اس مثبت پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ ان تمام چیزوں کو لڑائی کے بغیر کامیاب طور پر حاصل کرلیتے جس کو وہ لڑائی کے ذریعہ ناکام طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس معاملے کی بہترین مثال اسلام کے دور اول کا وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرک قبائل کے درمیان زبردست نزاع تھی ۔ ان مشرکین نے آپ کو آپ کے وطن مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ اور مسلمانوں کے خلاف دوسری بہت سی ناانصافیاں کررہے تھے۔ پیغمبر اسلام ﷺ اگر امن کے حصول کے لیے عدل کی شرط لگاتے تو دونوں فریقوں کے درمیان کبھی امن قائم نہ ہوتا۔ مگر آپ نے یہ کیا کہ عدل و انصاف کے سوال کو الگ کرکے کے مشرکین سے گویا ”امن برائے امن“ کے اصول پر صلح کرلی۔ اس امن کو آپ نے کام کے ایک موقع کے طور پر لیا۔ اور اس کو اسلام کی تعمیر و استحکام کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو سال کے اندر مزید اضافے کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل ہوگیا جس کو آپ نے بظاہر معاہدۂ امن کے وقت کھودیا تھا۔ دانش مندی کا یہ اصول جس طرح اجتماعی نزاعات کے لیے ہے۔ اسی طرح وہ انفرادی نزاعات و اختلافات کے لیے بھی ہے۔ انفرادی معاملات میں بھی کامیابی کا واحد طریقہ یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader