حقیقت پسندی
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ خیر اور شر یا صحیح اور غلط کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنے کے بجائے ممکن اور ناممکن کی بنیاد پر ان کو طے کیا جائے۔ گھر کے اندر دو مردوں یا دو عورتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی حالات کے اعتبار سے ممکن کیا ہے اور ناممکن کیا ہے۔ حق اور ناحق یا صحیح اور غلط کی بحث میں پڑنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے برعکس اگر آپ ممکن پر راضی ہو جائیں تو بیک وقت آپ کو دو فائدے حاصل ہوں گے اختلاف کا فوری خاتمہ اور مواقع کار کا حصول۔ یہی اصول تمام انفرادی نزاعات کے لیے ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں کے درمیان ہر شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مالی اور کبھی غیر مالی۔ ایسے مواقع پر جو شخص حق اور باطل یا صحیح اور غلط کی بحث چھیڑے ۔ وہ بلاشبہ غیر دانش مند انسان ہے۔ اس کے بجائے جو عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے ممکن پر راضی ہو جائے تو ایسا ہی شخص عقل مند ہے، اور یہی وہ شخص ہے جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کرے گا۔ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو لوگوں کی تمام تر توجہ اس پر لگ جاتی ہے کہ از روئے انصاف کیا ہونا چاہیے یا ان کے نزدیک اس معاملے میں حق کیا ہے اور پھر اس حق کے حصول کے لیے فریق ثانی سے لڑائی چھیڑ دیتے ہیں۔ یہ لڑائی اکثر سالہا سال تک جاری رہتی ہے اور اکثر کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔ اس طرح کے موقع پر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ مفروضہ حق کے حصول میں جو وقت اور طاقت خرچ ہوگی اس کو مقابلہ آرائی سے بچا کر اپنی مثبت تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ ٹکراؤ ہمیشہ حق کے حصول کے نام پر کیا جاتا ہے۔ مگر عملی طور پر ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دوران نہایت قیمتی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا میں عقلمندی یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader