تعمیر حیات
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
جو نتیجہ کل نکلنے والا ہو اس نتیجے کو آج چاہنا کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ فطرت کے نظام سے لڑنے کے ہم معنی ہے ۔ یہ دنیا کے اندر ایک اور دنیا بنانا ہے ۔ اس قسم کی کوشش کبھی کامیابی تک پہنچنے والی نہیں ۔ اس دنیا میں انسان کی ہر کامیابی فطرت کے نظام سے مطابقت کر کے حاصل ہوتی ہے ۔ فطرت کے نظام سے لڑنے والا آدمی یہاں اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتا۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ۔ عبرت ناک عراق کے صدر صدام حسین نے 12 اگست 1990 کو اپنی فوجیں کویت میں داخل کر دیں اور اس پر قبضہ کر لیا ۔ یہ واضح طور پر ایک جارحانہ فعل تھا۔ اس کے بعد 6 اگست کو بغداد میں امریکہ کے قائم مقام سفیر جوزف ولسن نے صدام حسین سے ملاقات کی اور انہیں امریکی صدر جارج بش کا پیغام پہنچایا ۔ امریکی سفیر نے ڈپلومیٹک انداز میں صدام حسین کو متنبہ کیا کہ انھوں نے جارحیت کا فعل کیا ہے ۔ کویت سے ان کے جو اختلافات تھے ، اس کو انھیں باہمی بات چیت سے حل کرنا چاہیے تھا ، نہ کہ طاقت کے استعمال سے ۔ صدام حسین اس وقت فاتحانہ جوش میں تھے ۔ انھوں نے امریکی سفیر کو جو جواب دیا وہ انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا تھا : Give my regards to President Bush and tell him that Al-Sabah family has now become history. صدر بش کو میرا سلام پہنچائیے اور ان سے کہہ دیجیے کہ کویت کا شاہی خاندان الصباح اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔ صدام حسین نے اس کے اگلے دن ، 17 اگست کو مزید یہ اعلان کر دیا کہ کویت اب کویت نہیں رہا ۔ وہ اب عراق کا 19 واں صوبہ ہے ۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ۔ اس کے بعد کویت کی درخواست پر امریکہ براہِ راست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader