Urdu book · تعمیر حیات

عبرت ناک

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

سامنے آگیا۔ اس نے صدام حسین کو وارننگ دی کہ وہ 15 جنوری 1991 تک اپنی فوجیں کویت سے نکال کر واپس لے جائیں۔ مگر صدام حسین نے اس الٹی میٹم کو نظر انداز کر دیا۔ اس کے بعد 17 جنوری 1991 کو امریکہ نے عراق کے اوپر زبردست حملہ کیا۔ صدام کی فوجیں اس کے دفاع میں سراسر ناکام رہیں۔ یکم مارچ 1991 کو یہ جنگ عراق کی بدترین شکست پر ختم ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے چاروں طرف سے عراق کی ناکہ بندی کر دی۔ اس ناکہ بندی نے عراق کی اقتصادیات کو تباہ کر دیا۔ چنانچہ صدام حسین نے مجبور ہو کر امریکہ کے تمام مطالبات کو مان لیا۔ آخر کار 10 نومبر 1994 کو صدام حسین کی قیادت میں عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا۔ اس میں متفقہ طور پر یہ روزولیشن پاس کیا گیا کہ عراق ایک آزاد ریاست (independent state) کے طور پر کویت کو تسلیم کرتا ہے۔ عراق کے ڈپٹی پرائم منسٹر طارق عزیز نے 14 نومبر 1994 کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے نیو یارک میں ملاقات کی اور ان کو تحریری طور پر عراق کے اس فیصلے سے مطلع کر دیا (ٹائمز آف انڈیا 15 نومبر 1994)۔ صدام حسین کویت کو تاریخ کا حصہ بنانا چاہتے تھے مگر وہ خود تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اس فعل سے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے حال کو جانتے تھے، اپنے مستقبل کے بارے میں وہ آخری حد تک بے خبر بنے ہوئے تھے۔ یہی موجودہ دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی اپنے آج کو جانتا ہے، اپنے کل کو وہ نہیں جانتا۔ اپنی کارروائی کی اسے خبر ہے، مگر خدا کے فرشتے اس کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، اس کی اسے خبر نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں ۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page