دل جیتنا
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب کہ آدمی کو فوری طور پر ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اگر آدمی فوری فیصلہ کرنے میں چوک جائے تو اس کے بعد اس کے لیے جو چیز ہے یہ نہیں ہے کہ وہ گھبرا کر یا جلد بازی میں بے فائدہ کارروائیاں کرنے لگے۔ اب اس کو انتظار کرنا چاہیے۔ عقلمند وہ ہے جو اس فرق کو جانے کہ کب فوری فیصلہ لینا ہے اور کب معاملے کو انتظار کے خانے میں ڈال دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظار بھی ایک عمل ہے۔ انتظار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے معاملے کو فطرت کے نظام کے حوالے کر دیا۔ وہ خدا کے فیصلے کا منتظر بن گیا۔ اگر وقت پر صحیح فیصلہ لینا کامیابی ہے تو ناموافق حالات میں انتظار کی پالیسی اختیار کرنا بھی کامیابی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا نتیجہ حال میں نکلتا ہے اور دوسرے کا نتیجہ مستقبل میں۔ سوچ کا فرق فریڈ رک لینک برج (Frederick Langbridge) انگریزی کا ایک شاعر ہے۔ وہ 1849 میں پیدا ہوا۔ 1923 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک شعر ہے کہ رات کے وقت دو آدمی جنگلہ کے باہر دیکھتے ہیں۔ ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ستارہ: Two men look out through the same bars One sees the mud, and one the stars. یہی بات ایک فارسی شاعر نے زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سننے کا فرق ہے۔ ایک آواز آتی ہے۔ تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دروازہ کھلنے کی آواز ہے: تفاوت است میان شنیدنِ من و تو تو غلقِ باب ومنم فتحِ باب می شنوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader