دل جیتنا
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کے اوپر بگڑ گیا۔ نیز صرف ایک چھوٹا خرگوش دیکھ کر اس کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ خرگوش نے نرمی اور لجاجت سے کہا کہ جناب، بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا۔ جانوروں نے آپ کی آج کی خوراک کے لیے دو خرگوش بھیجے تھے، مگر دوسرا شیر ہمارے اوپر جھپٹا۔ ایک کو تو اس نے پکڑ لیا۔ میں کسی طرح بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ اب شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مڑ گیا۔ اس نے چلا کر کہا کہ دوسرا شیر کون ہے جس نے اس جنگل میں آنے کی جرات کی ہے۔ مجھے اس کے پاس لے چلو۔ تا کہ میں اس کا قصہ تمام کر دوں۔ اب خرگوش کے ساتھ شیر روانہ ہوا۔ خرگوش نے شیر کو ادھر اُدھر گھمایا اور آخر میں اس کو ایک کنویں کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا اور کہا کہ حضور، وہ شیر اس کے اندر موجود ہے، آپ خود اس کو دیکھ لیں۔ شیر نے کنویں کے اوپر سے جھانکا تو نیچے پانی میں اس کو اپنا عکس نظر آیا۔ اس نے سمجھا کہ خرگوش کا کہنا درست ہے اور واقعتاً اس کے اندر ایک اور شیر موجود ہے۔ شیر غرايا تو دوسرا شیر بھی غرا اٹھا۔ اپنی سلطنت میں اس طرح ایک اور شیر کا گھس آنا اس کو برداشت نہیں ہوا۔ وہ چھلانگ لگا کر مفروضہ شیر کے اوپر کود پڑا۔ اور پھر کنویں میں پڑا پڑا مر گیا۔ اس طرح ایک خرگوش نے تدبیر کی طاقت سے شیر جیسے دشمن کا خاتمہ کر دیا۔ مولانا روم آخر میں کہتے ہیں کہ اس کی تدبیر کا جال گویا شیر کا پھندا تھا۔ کیسا عجیب تھا وہ خرگوش جو ایک شیر کو اچک لے گیا: دامِ مکر او کمندِ شیر بود طرف خرگوشی کہ شیرے راربود یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا روم نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو دی۔ مولانا روم نے مسلمانوں کو مجاہدانہ اقدام پر نہیں ابھارا۔ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader