Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کے تمام باسیوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر شیر کے اوپر حملہ کر دیں۔ اگر انھوں نے شیر کو مار ڈالا تو وہ غازی کا لقب پائیں گے۔ اور اگر شیران کو مارنے میں کامیاب ہو گیا تب بھی کوئی نقصان نہیں۔ کیوں کہ ایسی صورت میں وہ سب کے سب شہید قرار دیے جائیں گے۔ اور جس کو شہادت کا درجہ ملے اس کو بہت بڑا درجہ مل گیا۔ مولاناروم نے اس کے برعکس، مسلمانوں کو حکیمانہ تدبیر کی طرف رہنمائی دی۔ انھوں نے موت کے بجائے زندگی کا طریقہ بتایا۔ ان کی بتائی ہوئی حکیمانہ تدبیر میں انسان کو ابتداء چھوٹا بننا پڑتا ہے مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ بڑائی اور فتح کے بلند مقام کو پا لیتا ہے۔ مولاناروم کی یہ نصیحت حال کے لیے بھی اتنی ہی کارآمد ہے جتنی وہ ماضی کے لیے کارآمد تھی۔ دوسرا موقع ریڈرز ڈائجسٹ فروری 1987 میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس کا عنوان ہے: Dare to Change Your Life (اپنی زندگی کو بدلنے کی جرات کرو)۔ اس مضمون میں کئی ایسے واقعات دیے گئے ہیں جن میں ایک شخص کو ابتداء ناکامی پیش آئی۔ وہ نقصانات اور مشکلات سے دوچار ہوا۔ مگر اس نے حوصلہ نہیں کھویا۔ ایک موقع کو کھونے کے باوجود اس کی نظر دوسرے موقع پر لگی رہی۔ یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ ایک بار ناکام ہو کر اس نے دوسری بار کامیابی حاصل کرلی۔ مضمون کے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ زندگی دوسرے مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ دوسرے موقع کو استعمال کرنے کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ صرف یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اس کو پہچانے اور حوصلہ مندانہ طور پر اس پر عمل کرے: Life is full of second chances. All we need for a second chance is the ability to recognize it and the courage to act.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page