کامیابی کا ٹکٹ
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کا مطلب اگر وہ یہ سمجھتے کہ ان کے فرقہ کا آدمی صدر کے عہدہ پر پہنچ جائے تو انھیں امریکہ میں اپنے لیے ترقی کا دروازہ بالکل بند نظر آتا۔ کیوں کہ صدر کے عہدہ کے لیے امریکہ کا پیدائشی شہری (natural-born citizen) ہونا ضروری ہے، اور ایشیائی لوگ اس تعریف میں نہیں آتے ۔ صدارت کو اپنا نشانہ بنانے کی صورت میں ایشیائی مہاجرین یا تو مایوسی کا شکار ہوتے یا اس بات کی ناکام مہم چلاتے کہ امریکی دستور میں ترمیم کر کے صدارت کی اس شرط کو ختم کیا جائے تا کہ ان کا آدمی بھی صدر کے عہدہ کے لیے جائز امیدوار بن کر کھڑا ہو سکے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس قسم کی حماقت نہیں کی۔ انھوں نے اپنے واقعی حالات کے اعتبار سے امریکہ کا جائزہ لیا تو انھیں نظر آیا کہ یہاں ان کے جیسی اقلیت کے لیے اگر چہ صدارتی عہدہ تک پہنچنے کے مواقع نہیں ہیں، مگر اعلیٰ تعلیمی عہدوں تک پہنچنے کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ انھوں نے پایا کہ تعلیم ان کے لیے کامیابی کے ٹکٹ ( ticket to success) کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت تعلیم کے حصول میں لگا دی۔ چنانچہ انھیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ حتی کہ تعداد میں 2 فی صد ہوتے ہوئے وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 20 فی صد سیٹوں پر قابض ہو گئے۔ یہی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مواقع آدمی کے لیے کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ مواقع اس کے لیے کھلے ہوئے نہیں ہوتے ۔ آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرے ۔ اگر اس نے بند دروازوں سے سرٹکرایا تو دروازہ تو نہیں کھلے گا، البتہ اس کا سر ضرور ٹوٹ جائے گا۔ خاص طور پر تعلیم آج کی دنیا میں کامیابی کا ٹکٹ ہے، اور اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے مواقع ہر آدمی کے لیے ہر جگہ کھلے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader