تعمیر حیات
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
جاپانیوں نے اس نئے کمپیوٹر کا نام ایس ایکس ایکس (SX-X) رکھا ہے۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں سائنٹفک قسم کے حساب کے 20 ملین آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ جاپانی کمپیوٹر امریکہ کے تیز ترین کمپیوٹر سے 25 فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ اس کے ساتھ اس کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ وہ کامل صحت کارکردگی کے ساتھ نسبتاً وہ کم خرچ بھی ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کی اہمیت صرف سائنٹفک ریسرچ، تیل کی تلاش اور موسم کی پیشین گوئی جیسی چیزوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ وہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی بے حد اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ نئے جاپانی کمپیوٹر نے دنیا کو ایک نئے صنعتی دور میں پہنچادیا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر جو کسی زمانے میں، جدید سمجھے جاتے تھے، اب وہ روایتی اور تقلیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ حتی کہ جاپان کی اس ایجاد نے اس کو خود فوجی میدان میں بھی برتری عطا کر دی۔ امریکہ نے ”سپر بم“ بنا کر 1945 میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا۔ مگر وہ جاپان سے یہ امکان نہ چھین سکا کہ وہ ”سپر کمپیوٹر“ بنا کر دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لے اور صرف 45 سال کے اندر تاریخ کا رُخ موڑ دے۔ تخریب ، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ تعمیر نو کے مواقع کو ختم نہیں کرتی، اور تعمیر کی طاقت، بہر حال تخریب کی طاقت سے زیادہ ہے۔ کامیابی کا ٹکٹ امریکہ میں ایشیائی ملکوں سے آئے ہوئے جو لوگ آباد ہیں ان کو عام طور پر ایشیائی امریکی (Asian American) کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ زیادہ تر 1965 کے بعد یہاں آئے۔ امریکہ میں ان کی موجودہ تعدا تقریباً 2 فی صد ہے۔ ان میں کچھ یہودی ہیں، کچھ بدھسٹ ہیں، کچھ کنفیوشش کو ماننے والے ہیں۔ اور اسی طرح بعض دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader