Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

جب باہر کا کوئی آدمی آتا ہے تو اکثر جاپانی تقریباً جبلی طور پر سوچتے ہیں: ”میں اس سے کیا بات سیکھ سکتا ہوں“۔ اور تین ملین جاپانی جو آج کل ہر سال باہر کی دنیا کا سفر کرتے ہیں وہ جب باہر پہنچتے ہیں تو وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انھیں کوئی نیا تصور ہاتھ آجاۓ جس کو واپس جاکر وہ اپنے ملک میں استعمال کرسکیں۔ مٹھاس کا اضافہ ٹائمس آف انڈیا کے ضمیمہ (The Neighbourhood Star) بابت 24-18 مارچ 1989 (صفحہ 6) پر ایک سبق آموز واقعہ شائع ہوا ہے۔ ایران کے پارسی جب پہلی بار ہندوستان میں آئے تو وہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر اترے۔ اس وقت یا دورانا گجرات کا راجہ تھا۔ پارسی جماعت کا پیشوا راجہ سے ملا۔ اور اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان لوگوں کو اپنی ریاست میں ٹھہرنے کی اجازت دے۔ راجہ نے اس کے جواب میں دودھ سے بھرا ہوا ایک گلاس پارسی پیشوا کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری ریاست پہلے ہی سے آدمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں مزید لوگوں کو ٹھہرانے کی گنجائش نہیں۔ پارسی پیشوانے لفظوں میں اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے صرف یہ کیا کہ ایک چمچہ شکر لے کر دودھ میں ملایا اور گلاس کو راجہ کی طرف لوٹا دیا۔ یہ اشاراتی زبان میں اس بات کا اظہار تھا کہ ہم لوگ آپ کے دودھ پر قبضہ کرنے کے بجاۓ اس کو میٹھا بنائیں گے، ہم آپ کی ریاست کی زندگی میں شیرینی کا اضافہ کریں گے۔ اس کے بعد راجہ نے انھیں گجرات میں قیام کی اجازت دیدی۔ اس واقعے پر اب ایک ہزار سال کی مدت گزر چکی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پارسیوں کے رہنما نے جو بات کہی تھی اس کو پارسی قوم نے پورا کر دکھایا۔ پارسی اس ملک میں مطالبہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page