مٹھاس کا اضافہ
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
اور احتجاج اور ایجی ٹیشن کا جھنڈا لے کر کھڑے نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اپنی خاموش محنت سے اس ملک کی ترقی میں اضافہ کیا۔ پارسیوں نے دوسروں سے زیادہ محنت کی وہ تعلیم اور تجارت اور صنعت میں آگے بڑھے۔ انھوں نے ملک کی دولت اور ملک کی ترقی کو بڑھایا۔ اس ملک میں جہاں بہت سے لوگ لینے والے گروہ (taker group)کی حیثیت رکھتے ہیں، پارسیوں نے عمل کے ذریعہ اپنے لیے دینے والے گروہ(giver group) کا درجہ حاصل کیا ہے۔ یہی زندگی کا راز ہے۔ اس دنیا میں دینے والا پاتا ہے۔ یہاں اس آدمی کو با عزت جگہ ملتی ہے جو لوگوں کے ”دودھ“ میں اپنی طرف سے، ”مٹھاس“ کا اضافہ کرے ۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے صرف کڑواپن ہو، انھیں بھی اس دنیا میں وہی چیز ملتی ہے جو انھوں نے دوسروں کو دی ہے۔ اگر آپ کچھ پانا چاہتے ہیں تو دنیا میں ”عطیہ کارڈ“ لے کر نکلیے۔ اگر آپ ”مطالبہ کارڈ“ لے کر نکلے تو یہاں آپ کو کچھ ملنے والا نہیں۔ 24 اگست 1988 کو مسٹر پی ڈی ملہوترا (پیدائش 1935) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ساہتیہ اکیڈمی (نئی دہلی) میں تقریباً 30 سال سے پبلی کیشنز مینیجر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز مجھے دفتر میں دیر ہوگئی۔ گھر جانے کے لیے باہر نکلا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میں اپنے اسکوٹر پر چلتے ہوئے ایک سڑک پر پہنچا تو وہاں پولس کے آدمی نے مجھے روک دیا۔ اس نے کہا کہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھاؤ۔ مسٹر ملہوترا نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ڈرائیونگ کارڈ کے ساتھ ایک اور کارڈ نکل آیا اس نے اپنے ہاتھ میں دونوں کارڈ لیتے ہوئے پوچھا کہ یہ دوسرا کارڈ کیا ہے۔ یہ دراصل آنکھ کے عطیہ کا کارڈ (Eye Donor Card) تھا۔ اس کارڈ پر آدمی کے دستخط کے ساتھ اس کی طرف سے یہ الفاظ درج ہوتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھیں قوم کو عطیہ دی ہیں۔ براہ کرم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader