Urdu book · تعمیر حیات

مستقبل پر نظر

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

نادان آدمی کی نظر حال پر ہوتی ہے ، عقل مند آدمی کی نظر مستقبل پر۔ نادان آدمی اپنے آج کے حالات میں ایک ناپسندیدہ چیز دیکھتا ہے۔ وہ اس سے لڑنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے ۔ عقل مند آدمی دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ہماری آج کی لڑائی کا انجام کل کس انداز میں نکلے گا۔ نادان آج کو دیکھ کر اقدام کرتا ہے ، عقل مند وہ ہے جو مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔ ہر اقدام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مستقبل کا واقعہ ہے۔ اقدام آج کیا جاتا ہے ، مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ آئندہ نکلتا ہے۔ اس لیے یہی درست بات ہے کہ عملی اقدام کو آئندہ کے معیار سے جانچا جائے ۔ آج کی کارروائی کے ٹھیک یا بے ٹھیک ہونے کا فیصلہ اس اعتبار سے کیا جائے کہ کارروائی جب اپنے انجام پر پہنچے گی تو اس کا حاصل کس صورت میں ہمارے سامنے آئے گا۔ ایک شخص کو ایک بھڑ نے کاٹ لیا۔ اب وہ غصہ ہو کر ایسا کرے کہ بھڑوں کو سزا دینے کے لیے بھڑ کے چھتہ میں اپنا ہاتھ ڈال دے۔ اگر کوئی آدمی ایسا کرے تو اس کے بعد اس کی یہ شکایت بے معنی ہوگی کہ پہلے تو صرف ایک بھڑ نے اس کو معمولی طریقہ پر کاٹا تھا۔ اب سیکڑوں بھڑیں اس سے لپٹ گئیں اور اس کے سارے جسم کو ڈنک مار کر زخمی کر دیا۔ یہ دنیا دانش مندوں کے لیے ہے ، نادانوں کے لیے یہاں اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بے سوچے سمجھے ایک اقدام کریں اور جب اس کا برا انجام سامنے آئے تو اس کے خلاف احتجاج کرنے بیٹھ جائیں۔ " آج “ کا صحیح مصرف آج کو قربان کرنا نہیں ، بلکہ آج کو استعمال کرنا ہے۔ جو لوگ اس حکمت کو جانیں وہی اس دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔ ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ— اچھا سپاہی جنگ کے پہلے ہی دن لڑ کر مر نہیں جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page