مستقبل پر نظر
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ وہ زندہ رہتا ہے تا کہ اگلے دن وہ دشمن سے لڑ سکے: A good soldier lives to fight for the second day. یہ قول صرف معروف قسم کی بڑی بڑی جنگوں کے لیے نہیں ہے ۔ وہ روزانہ پیش آنے والے عام مقابلوں کے لیے بھی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آپ کی ان بن ہو جائے اور آپ فوراً ہی اس سے آخری لڑائی لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو آپ ایک "برے سپاہی" ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حالات میں آدمی "پہلے دن" زیادہ مؤثر لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو پہلے دن لڑائی کو واوائڈ کرے۔ وہ لڑائی کے میدان سے ہٹ کر اپنے آپ کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ تا کہ یا تو اس کے مقابلے میں اس کا حریف اتنا کمزور ہو جائے کہ وہ لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈال دے۔ یا وہ خود اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ ہر معرکہ کو کامیابی کے ساتھ جیت سکے۔ اس اصول کی بہترین مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ مدت کا نصف سے زیادہ حصہ مکہ میں گزارا۔ یہاں آپ کے مخالفین نے ہر قسم کا ظلم کیا۔ مگر آپ نے ان سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ آپ ایک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد جب پھر انھوں نے ظلم کیا تو آپ نے اپنی فوج کو منظم کر کے ان سے جنگ کی۔ اس کے بعد دوبارہ آپ حدیبیہ کے موقع پر جنگ سے رک گئے، اس کے بعد جلد ہی وہ وقت آیا کہ دشمن نے کسی لڑائی کے بغیر ہتھیار رکھ کر اپنی شکست مان لی۔ "پہلے دن" آپ نے دشمن کے خلاف صبر کیا۔ "دوسرے دن" آپ نے دشمن سے مسلح مقابلہ کیا اور اس کے اوپر کامیابی حاصل کی۔ حدیبیہ کے "دوسرے دن" تو مقابلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ دشمن نے بلا مقابلہ شکست مان کر اپنے ہتھیار رکھ دیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader