شیر کا طریقہ
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
شیر اور دوسرے تمام جانور فطرت کے مدرسہ کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ ہمیشہ اس طریقہ پر چلتے ہیں جو ان کے خالق نے براہِ راست طور پر انہیں بتایا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ شیر کا مذکورہ طریقہ فطرت کا پسندیدہ طریقہ ہے۔ شیر کے لیے یہ احتیاطی طریقہ اس کی طینت میں رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کے لیے شریعت کی زبان میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی کہ: خُذُوا حِذْرَكُمْ (4:71)۔ یعنی، اپنے بچاؤ کا انتظام رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے جس خاص مصلحت کے تحت موجودہ دنیا کو بنایا ہے، اس کی بنا پر یہاں صاف ستھرے راستے بھی ہیں، اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی۔ یہ کانٹے دار جھاڑیاں لازماً اس دنیا میں رہیں گی، ان کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ اب یہاں جو کچھ کرنا ہے، وہ وہی ہے جو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق جنگل کا شیر کرتا ہے، یعنی کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنے آپ کو بچایا جائے اور صاف اور کھلا ہوا راستہ تلاش کر کے اس پر اپنا سفر جاری کیا جائے۔ شیر جنگل کی گھاس سے اعراض کرتے ہوئے چلتا ہے، ہم کو انسانوں کے فتنہ سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل سے دوسروں کو غصہ نہ دلائیں۔ اور اگر دوسرے لوگ ہمارے اوپر غضب ناک ہو جائیں تو صبر کے ذریعہ ان کے غضب کو ٹھنڈا کریں۔ اور حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو ان کے غضب کا شکار ہونے سے بچائیں۔ "جنگل کا بادشاہ" جو کچھ کرتا ہے وہ بزدلی نہیں ہے بلکہ عین بہادری ہے۔ اسی طرح ایک انسان اپنے سماج میں یہی طریقہ اختیار کرے تو وہ بزدلی نہیں ہوگا بلکہ عین بہادری ہوگا۔ اعراض کا طریقہ شیر کا طریقہ ہے، نہ کہ گیڈر کا طریقہ۔ خداوندِ عالم کا ایک ہی قانون ہے جو انسانوں سے بھی مطلوب ہے اور غیر انسانوں سے بھی۔ اور وہ ہے ناخوش گوار باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ گلاب کے پھولوں کا ایک باغ ہے۔ آپ اس میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader