تعمیر حیات
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھیں جو لندن سے چھپے اور انگریز ادیب اس کی زبان کی تعریف کرے، اس کا راز اردو کے اس مشہور مقولہ میں پُھپا ہوا ہے: تھوڑا تھوڑا بہت ہو جاتا ہے۔ مولوی لطف اللہ نے انگریزی زبان صرف اپنی محنت سے سیکھی۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز ملازموں کو ہندستانی، فارسی اور مرہٹی زبانیں سکھاتے تھے۔ ان کے انگریز شاگردوں کی تعداد سو سے اوپر تھی۔ انگریزوں سے تعلق کے نتیجہ میں ان کے اندر انگریزی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ انھوں نے ذاتی مطالعہ سے انگریزی زبان پڑھنا شروع کیا۔ اور آٹھ سال کی لگا تار محنت کے نتیجہ میں اس پر پوری طرح قدرت حاصل کرلی۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس آٹھ سال کی مدت میں کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری جب کہ سونے سے پہلے میں نے انگریزی کے دس لفظ یاد نہ کیے ہوں اور ڈاکٹر گل کرسٹ کی قواعد کی کتابوں کے چند صفحے توجہ سے پڑھ کر ذہن میں محفوظ نہ کیے ہوں ۔ یہ "دس لفظ " بظاہر بہت کم معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر دس لفظ روزانہ کی رفتار کو جب آٹھ سال تک پھیلا دیا جائے تو وہ ایک شخص کو غیر زبان کا ایسا ادیب بنا دیتے ہیں کہ اہل زبان بھی اس کی زبان دانی کا اعتراف کریں۔ شیر کا طریقہ ٹائمس آف انڈیا (18 مارچ (1991) میں شیر کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شیر جنگل کی گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتے ۔ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی کانٹا ان کے نرم پاؤں میں نہ چھب جائے۔ چنانچہ وہ ہمیشہ کھلے راستوں پر یا سڑکوں پر چلتے ہیں : Tigers hate to walk on the jungle grass for the fear of a thorn piercing their soft feet. Thus they always walk on open paths and roads.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader