Urdu book · تعمیر حیات

خون کے بجائے پانی

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

خون کے بجائے پانی محمد افضل لادی والا (35 سال) بمبئی کے رہنے والے ہیں۔ 24 فروری 1991 کی ملاقات میں انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ 22 جنوری 1991 کو رنگ بھون (دھوبی تلاؤ) میں ایک کلچرل پروگرام تھا۔ افضل صاحب نے اس میں شرکت کی۔ ساڑھے گیارہ بجے رات کو یہ پروگرام ختم ہوا۔ اس سے فارغ ہو کر وہ بمبئی وی ٹی پر آئے اور ٹرین کے ذریعہ گُر لا پہنچے۔ اس وقت تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ اسٹیشن سے رہائش گاہ (بلاؤپل) تک تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ انھوں نے چاہا کہ تھری وہیلر کے ذریعہ گھر کے لیے روانہ ہوں۔ تھری وہیلر کے انتظار میں وہ سڑک پر کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں ایک تھری وہیلر آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس وقت ان کے منہ میں پان تھا۔ تھری وہیلر کو آواز دینے کے لیے انھوں نے جلدی میں پان کو تھوکا۔ اتفاق سے عین اسی وقت ایک مسافر سائیڈ میں آگیا اور افضل صاحب کا پان پورا کا پورا اس کے پاؤں پر جاگرا۔ مسافر فوراً آگ بگولا ہو گیا طیش میں آ کر اس نے کہا کہ پان کھاتے ہو اور پان کھانے کی تمیز بھی نہیں۔ مگر افضل صاحب، جو الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، انھوں نے گرم الفاظ کا جواب ٹھنڈے الفاظ سے دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہوں۔ پان کھانا بھی غلط، اور پان کھا کر میں نے جو کچھ کیا وہ بھی غلط۔ وہ آدمی تیز ہوتا گیا۔ مگر افضل صاحب نے اس کی اشتعال انگیز باتوں کا جواب دینے کے بجائے کہا کہ مجھے معاف کیجیے۔ اس نے کہا کہ یہ اچھا ہے کہ کسی کے ساتھ کچھ بھی کر دو، اس کے بعد کہو کہ معاف کر دو۔ افضل صاحب نے کہا کہ بھائی میں رسمی معافی نہیں مانگ رہا ہوں۔ میں دل سے معافی مانگ رہا ہوں۔ اب آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کے پاؤں دھوئوں۔ افضل صاحب نے جب پاؤں دھونے کی بات کہی تو آدمی کچھ نرم پڑا کچھ اور باتوں کے بعد آخر کار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page