Urdu book · تعمیر حیات

خون کے بجائے پانی

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ راضی ہوا کہ افضل صاحب اس کا پاؤں دھودیں۔ قریب ہی ایک چائے وغیرہ کا ہوٹل تھا۔ افضل صاحب فوراً اس کے پاس گئے اور کہا کہ ”چچا، ایک گلاس پانی دینا“، افضل صاحب گلاس لے کر آئے تو آدمی بالکل ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو دیجیے، میں خود اپنے ہاتھ سے دھو لیتا ہوں۔ آدمی نے اپنے ہاتھ میں گلاس لے کر دھویا۔ ایک گلاس سے پوری صفائی نہیں ہوئی تو افضل صاحب دوڑ کر گئے اور ایک گلاس مزید پانی لے آئے۔ یہاں تک کہ اس کا پاؤں پوری طرح صاف ہو گیا۔ یہ واقعہ ریلوے اسٹیشن کے باہر پیش آیا۔ گفتگو کے دوران افضل صاحب نے اس آدمی سے کہا: بھائی صاحب، آپ ”میم“ ہیں، اگر آپ ”کاف“ ہوتے تب بھی مجھے یہی کرنا تھا، کیوں کہ اسلام نے ہم کو ایسا ہی حکم دیا ہے یہ سن کر وہ آدمی افضل صاحب سے لپٹ گیا۔ اس نے کہا کہ بھائی صاحب، میں کاف ہی ہوں۔ اور آپ جیسا مسلمان مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار ملا ہے۔ اور اگر دوسرے مسلمان بھی آپ جیسے ہو جائیں تو سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔ اب وہ آدمی بالکل بدل گیا۔ پہلے اس کے اندر غصہ اور انتقام بھڑک اٹھا تھا۔ اب وہ شرمندہ ہو کر افضل صاحب سے کہنے لگا کہ بھائی مجھ کو معاف کرنا۔ آپ کو میں نے بڑی تکلیف دی۔ میری وجہ سے آپ کو پانی لانا پڑا۔ آپ کا تھری ویلر بھی چھوٹ گیا۔ افضل صاحب نے کہا کہ مجھ کو شرمندہ نہ کیجیے۔ اس معاملے میں اصل غلطی تو میری تھی۔ اور میں جو پانی لایا، وہ میرا فرض تھا جو میں نے کیا۔ واقعے کے شروع میں جو آدمی دوسرے کو غلط بتا رہا تھا۔ واقعے کے آخر میں وہ خود اپنی غلطی مان کر شرمندہ ہو گیا اور معافی مانگنے لگا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت بمبئی کے علاقہ جوگیشوری میں زبردست فرقہ وارانہ کشیدگی موجود تھی ۔ یہ مقام کرلا سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ان حالات میں اگر افضل صاحب اشتعال کے جواب میں اشتعال کا انداز اختیار کرتے تو وہی ہوتا جو اس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page