Urdu book · تعمیر حیات

آسان حل

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

نوجوانوں میں جوابی جوش پیدا ہوا۔ انھوں نے مذکورہ فقرہ کے آگے ہر جگہ یہ الفاظ لکھ دیے کہ ہندو بننے کے لیے (to become Hindu)۔ جملہ کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ پڑھے لکھے ہندوؤں کا فعل نہیں تھا۔ کیوں کہ انگریزی کے اعتبار سے صحیح جملہ یوں ہوگا: To become a Hindu اسی قسم کا واقعہ اگر کسی شہر میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا تو فوراً کچھ سطحی قسم کے لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے کہ یہ توہینِ رسول ہے۔ یہ مسلمانوں کی دل آزاری ہے، یہ ہماری ملّی غیرت کو چیلنج ہے۔ اس کے بعد کچھ مسلم نوجوان مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کرتے اور پھر شہر کے اندر ہندو مسلم فساد ہو جاتا۔ اب نام نہاد مسلم لیڈر بیانات دے کر انتظامیہ کا نکما پن ثابت کرتے۔ ریلیف فنڈ کھول کر کچھ لوگ ملّی خدمات کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتے ۔ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں گرما گرم سرخیاں چھپتیں جس کے نتیجے میں ان کی اشاعت بڑھ جاتی۔ اور جہاں تک مسلم عوام کا تعلق ہے، ان کے حصے میں اس کے سوا کچھ اور نہ آتا کہ ان کی بربادی میں مزید اضافہ ہو جائے۔ مگر عیسائیوں نے اس ”اشتعال انگیز کارروائی“ کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ واقعہ محض ایک بے واقعہ (non-event) بن کر رہ گیا۔ 19 فروری 1990 کی صبح کو میں اوبرائے ہوٹل (نئی دہلی) کے پاس فلائی اوور پر کھڑا ہوا اس کی دیواروں پر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پل کے دونوں طرف کی کشادہ سڑک پر سواریاں تیزی سے گزر رہی تھیں۔ کسی کو بھی یہ فرصت نہ تھی کہ وہ ٹھہر کر پل کے اوپر لکھے ہوئے ان الفاظ کو پڑھے۔ یہ الفاظ پل کی دیواروں پر ناقابل التفات نشان کے طور پر صرف اس بات کے منتظر تھے کہ بارش کا پانی اور ہواؤں کا جھونکا ان کو مٹادے، اس سے پہلے کہ کوئی ان کو پڑھے یا ان سے کوئی اثر قبول کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page