Urdu book · تعمیر حیات

آسان حل

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کرنا: ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے حالی نے ان بے ہودہ مخالفتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ آخر کار چند سال کے بعد وہ لوگ تھک کر چپ ہو گئے ۔ کسی نے حالی سے سوال کیا کہ آپ کے مخالفین کیسے خاموش ہو گئے ۔ اس کے جواب میں حالی نے کسی کا نام لیے بغیر یہ شعر کہا: کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا جھوٹی مخالفتوں کا سب سے زیادہ آسان اور کارگر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی جواب نہ دیا جائے ۔ جھوٹی مخالفت ہمیشہ بے بنیاد ہوتی ہے۔ اس کے لیے مقدر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ ڈھ پڑے۔ ایسی مخالفت کا جواب دینا گویا اس کی مدت عمر میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر آدمی صبر کرے تو بے جڑ درخت کی طرح ایک روز وہ اپنے آپ گر پڑے گی۔ وہ کبھی دیر تک خدا کی زمین پر قائم نہیں رہ سکتی۔ جھوٹ کا سب سے بڑا قاتل وقت ہے۔ آپ آنے والے وقت کا انتظار کیجیے۔ اور اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وقت نے اس فتنہ کو زیادہ کامل طور پر ہلاک کر دیا ہے جس کو آپ صرف ناقص طور پر ہلاک کرنے کی تدبیر کر رہے تھے۔ اس تدبیر کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں۔ جس معاملے میں بھی خاموش انتظار کی یہ تدبیر اختیار کی جائے گی، آخر کار وہ کارگر ثابت ہوگی۔ کچھ عیسائیوں نے دہلی کے پلوں اور دیواروں پر کالے رنگ سے انگریزی میں یہ فقرہ لکھ دیا کہ مسیح جلد آنے والے ہیں (Jesus is coming soon) اس کے بعد کچھ ہندو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page