Urdu book · تعمیر حیات

علم کی اہمیت

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

(دشوار) رکھ دیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کا نام تو الیسری (آسان) ہے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 482)۔ گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی عُسر میں یُسر کو دریافت کرے ۔ وہ دشوار گزار راستہ کو آسان راستہ کے روپ میں دیکھ سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس تعلیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ کو سخت ترین مشکلات پیش آئیں، مگر آپ نے حکیمانہ تدبیر سے ان کو اپنے حق میں آسان بنالیا۔ آپ نے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کرلیا۔ ایک مستشرق مسٹر کیلٹ (E. E. Kellet) نے آپ کی اس صفت کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں : He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions, p. 334) دنیا میں ایک طرف انسان ہے جو دوسرے انسان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف خدا کا نظام ہے جس نے ہر مشکل کے ساتھ اس کا حل بھی رکھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں انسانی مشکلات پر شور کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نے انسان کے عمل کو دیکھا مگر وہ خدا کے عمل کو نہ دیکھ سکا۔ کیوں کہ اگر وہ خدا کے عمل کو دیکھتا تو شکایت کرنے کے بجائے وہ اس کو استعمال کرنے میں لگ جاتا۔ اس دنیا میں ہر ناکامی کے بعد ایک نئی کامیابی کا امکان آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی اس امکان کو استعمال کرکے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنائے۔ الرساله (دسمبر 1988) میں کناڈا کے کھلاڑی بن جانسن (Ben Johnson) کا قصہ چھپ چکا ہے۔ دوڑ کے عالمی مقابلے میں اس نے اول درجہ کی کامیابی حاصل کی۔ مگر اگلے ہی دن اس کا جیتا ہوا گولڈ میڈل اس سے چھین لیا گیا۔ مزید اس کے بارے میں یہ سخت فیصلہ کیا گیا کہ وہ اگلے دو سال تک کھیل کے مقابلوں میں حصہ نہ لے سکے گا۔ بن جانسن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page