علم کی اہمیت
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے یہ اس کی زندگی کا شدید ترین حادثہ تھا۔ تاہم اس نے ”ظالم حجوں“ کے خلاف احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا۔ اس نے از سر نو اپنی تیاری کا منصوبہ بنایا۔ اٹلی کے ٹیلی وژن نیٹ ورک نے نومبر 1988 میں بن جانسن کا ایک با تصویر انٹرویو اس کی رہائش گاہ (ٹورانٹو) پر لیا جس کی تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (29 نومبر 1988) کے مطابق، ایک سو میٹر دوڑ کے عالمی چمپین بن جانسن نے ٹیلی ویژن کیمرہ کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جان بوجھ کر کھیل کے اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ تاہم وہ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ بارسلونہ (اسپین) میں 1992 میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں واپس آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کا عالمی ریکارڈ ٹریک پر 13 سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ بظاہر وہ بہت افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ سیول اولمپک کے بعد پیش آنے والے مشکل لمحات کا ذکر کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ۔ انٹرویو لینے والے مسٹر گیانی منولی (Gianni Minoli) نے کہا کہ شوٹنگ کا کام پانچ منٹ تک روک دینا پڑا۔ کیوں کہ بن جانسن اپنی سسکیوں پر قابو نہیں پا سکے تھے۔ بن جانسن نے بتایا کہ ٹریک پر واپس آنے کے لیے وہ ہفتہ میں چھ دن چار گھنٹہ روزانہ ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا کام صرف دوڑنا ہے۔ بیٹھے رہنے کی بات میں سوچ بھی نہیں سکتا میری خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ مقابلے میں حصہ لوں۔ انھوں نے میرا سونے کا تمغہ مجھ سے لیا ہے، نہ کہ میری رفتار: They have taken away my gold medal, not my speed. چھیننے والا ہمیشہ آپ کی کوئی چیز چھینتا ہے، نہ کہ خود آپ کو۔ آپ کا وجود اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ پھر بھی آپ کو حاصل رہتا ہے۔ اس حاصل شدہ متاع کو استعمال کیجیے، اور پھر ہر محرومی کے بعد آپ اپنی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader