Urdu book · تعمیر حیات

دشمن میں دوست

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

سوامی رام تیر تھ روانی کے ساتھ انگریزی بولتے تھے۔ وہ دھرم کے پرچار کے لیے 1903 میں امریکہ گئے۔ ان کا جہاز سان فرانسسکو کے سمندری ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ وہ اترے تو ایک امریکی ازراہِ تعارف ان کے قریب آیا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی: ”آپ کا سامان کہاں ہے،“ امریکی نے پوچھا۔ ”میرا سامان بس یہی ہے،“ سوامی رام تیر تھ نے جواب دیا۔ ”اپنا روپیہ پیسہ آپ کہاں رکھتے ہیں“ ”میرے پاس روپیہ پیسہ ہے ہی نہیں“ ”پھر آپ کا کام کیسے چلتا ہے“ ”میں سب سے پیار کرتا ہوں، بس اسی سے میرا سب کام چل جاتا ہے“ ”تو امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ضرور ہوگا“ ”ہاں ایک دوست ہے اور وہ دوست یہ ہے“ سوامی رام تیر تھ نے یہ کہا اور اپنے دونوں بازو امریکی شخص کے گلے میں ڈال دیے ۔ امریکی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد وہ امریکی ان کا اتنا گہرا دوست بن گیا کہ وہ انھیں اپنے گھر لے گیا اور سوامی رام تیر تھ جب تک امریکہ میں رہے وہ برابر ان کے ساتھ رہا اور ان کی خدمت کرتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ ان کا شاگرد بن گیا۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ محبت کے ذریعے آپ اپنے مخالف کو جھکا سکتے ہیں اور ایک اجنبی شخص کو اپنا بنا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی محبت سچی محبت ہو، وہ دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page