Urdu book · تعمیر حیات

دشمن میں دوست

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

بھیجنے طے پایا اور ان کے لیے ریاست کی طرف سے 30 ہزار روپے کا بلاسودی قرض منظور کیا گیا۔ ان میں سے ایک سید عبد اللطیف بھی تھے۔ لندن پہنچ کر وہ وہاں بی اے (آنرز) میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔ مگر کنگس کالج کے صدر شعبہ انگریزی اور دوسرے انگریز اساتذہ آپ کی صلاحیت سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ آپ کو بی اے اور ایم اے سے مستثنیٰ کرتے ہوئے براہ راست پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت دے دی۔ آپ کے مقالہ کا عنوان اردو ادب پر انگریزی ادب کے اثرات، طے پایا۔ مقالہ کی تیاری کی مدت تین سال مقرر کی گئی تھی مگر آپ نے دو سال ہی میں پی ایچ ڈی کے مقالے کی تکمیل کر لی۔ کنگس کالج کے ذمہ داروں نے اس کو منظور کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کا مستحق قرار دیا۔ سید عبد اللطیف مقررہ مدت سے ایک سال پہلے ڈاکٹر ہو کر حیدر آباد واپس آگئے۔ یہاں آپ کو فوراً جامعہ عثمانیہ کا پروفیسر بنا دیا گیا (انجمن از حسن الدین احمد آئی اے ایس، 1974، صفحہ 86-85)۔ 1922 میں انگریز کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسی دشمن نے مسلمان طالب علم کے ساتھ فیاضی کا وہ معاملہ کیا جس کی مثال مسلم اداروں میں بھی مشکل سے ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ "دشمن انسان" کے اندر بھی، دوست انسان موجود ہوتا ہے۔ مگر اس دوست انسان کو وہی لوگ پاتے ہیں جو دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر انسانوں سے معاملہ کرنا جانتے ہوں۔ عام مزاج یہ ہے کہ لوگ اپنوں کو اپنا اور غیروں کو غیر سمجھتے ہیں۔ مگر کھلے دل والے انسان کے لیے ہر ایک اس کا اپنا ہے، کوئی اس کا غیر نہیں۔ سوامی رام تیرتھ (1906-1873) نہایت قابل آدمی تھے۔ ان کا ایک بہت با معنی قول ہے: زندگی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے "کھینچو"، مگر اکثر ہم اسے "دھکا" دینا شروع کر دیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page