حکمتِ امراض
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اس کے بعد دوسرا موقع وہیں اس کے لیے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لیے دوسرا موقع موجود ہے (سہیل احمد، نئی دہلی)۔ نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لیے تیار ہو۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے ۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ 1947 سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندوستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے۔ یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ 1947 میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا۔ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اس ملک کو دوسرا سپین بنانا چاہتا ہے۔ اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندوستان میں ان کے لیے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں ۔ میں 1947 سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخر کار آزادی کے تقریباً 40 سال بعد مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں ان کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے، نہ کہ کسی متعصب فرقہ کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔ کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو فطرت اس کے راستہ میں رکاوٹ بن جائے گی اور وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹی طرف گھمانے میں کامیاب نہ ہوگا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اس دنیا کا نظام فطرت کے اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے، نہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader