حکمتِ امراض
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مقابلے میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتا ہے۔ اور زیر سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو اس کے مقابلے میں ردِّ عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اشتعال انگیز صورت حال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور فوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے۔ اور دوسرا یہ کہ فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو بلکہ اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرے۔ اور اس کے بعد جو کچھ کرے ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر کرے۔ مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے ردِّ عمل کا نام غیر صابرانہ ردِّ عمل ہے، اور دوسری قسم کے ردِّ عمل کا نام صابرانہ ردِّ عمل۔ اور دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ غیر صابرانہ ردِّ عمل پیش آمدہ صورت حال کا جذباتی جواب (emotional response) ہو ۔ اس کے برعکس، صابرانہ ردِّ عمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال کے مقابلے میں جوابی کارروائی کی جائے وہ ایک سوچا سمجھا جواب (well-considered response) ہو ۔ صبر کوئی بے عملی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی ناپسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔ غلط سوچ کا مسئلہ ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader