Urdu book · تعمیر حیات

ضمیر کی طاقت

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

اعظم گڑھ کے شمال مغرب میں ایک گاؤں ریدا ہے جو مجھوئی ندی کے کنارے فیض آباد کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں چار گھر مسلمانوں کے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندوؤں کے دو سو گھر آباد ہیں۔ نومبر 1987ء میں ایسا ہوا کہ باہر سے ایک نیل گائے آیا اور گنے کے کھیت میں داخل ہو گیا۔ ایک مقامی مسلمان جھنّو درزی نے چاہا کہ اس کا شکار کیا جائے انھوں نے پڑوس کے گاؤں مخدوم پور میں ایک مسلمان کو اس کی خبر کی جس کے پاس بندوق ہے۔ وہ اپنی بندوق لے کر آئے اور نیل گائے پر فائر کیا۔ اگر نیل گائے موقع پر مر گیا ہوتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر نشانہ صحیح نہیں لگا۔ نیل گائے زخمی ہو گیا اور خون بہاتا ہوا بھاگا۔ ہندوؤں نے جب جا بجا خون دیکھا تو وہ مشتعل ہو گئے ۔ ان کو معلوم ہوا کہ جھنّو درزی نے مخبری کر کے نیل گائے پر گولی دلوائی ہے، تو انھوں نے گاؤں میں پنچایت کی، اور جھنّو کو بلا کر اس کو یہ سزا سنائی کہ تم نے جو قصور کیا ہے، اس کے بدلے تمھارے اوپر ایک ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں کوئی سطحی لیڈر جھنّو درزی کو بہکانے کے لیے موجود نہ تھا، اور نہ مسلمانوں کا وہاں کوئی زور تھا جو جھنّو درزی کو جھوٹے بھرم میں مبتلا کرے۔ چنانچہ فطرت نے جھنّو درزی کی رہنمائی کی۔ وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: پنچوں کا فیصلہ مجھ کو منظور ہے۔ میں غریب آدمی ہوں۔ میرے پاس نقد روپیہ موجود نہیں۔ مگر میں اپنے گھر کا سامان بیچ کر اس کو ادا کروں گا۔ تین دن گزرے تھے کہ ہندوؤں کا ضمیر جاگ اٹھا۔ انھوں نے دوبارہ اپنے لوگوں کی پنچایت بلائی۔ انھوں نے آپس میں کہا کہ یہاں مسلمان بہت تھوڑے اور کمزور ہیں۔ باہر کے لوگ جب سنیں گے کہ ہم نے ان سے جرمانہ وصول کیا ہے تو وہ ہم لوگوں کو بہت گرا ہوا سمجھیں گے اور ہماری بے عزتی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو کمزور پا کر انھیں دبا لیا۔ اتفاق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page