تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے ایک شہر میں تجارتی ادارہ کھولنے کی اجازت بظاہر بہت معمولی چیز تھی کیونکہ اس کے باوجود ہندوستان کا وسیع ملک مغل حکمران ہی کے حصہ میں تھا۔ عظمت و شان اور قوت و طاقت کے تمام مظاہر پر دوسروں کا قبضہ بدستور باقی تھا۔ مگر سورت میں تجارتی ادارہ قائم کرنا انگریز کو وہ سرادے رہا تھا جو بالآخر اس کو تمام دوسری چیزوں پر قبضہ دلا دے۔ چنانچہ انگریز نے اس کمتر چیز کو قبول کر لیا اور اس کے بعد تاریخ نے بتایا کہ جوکم تر پر راضی ہو جائے وہ آخر کار برتر پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کا سبق ہے، مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ اس دنیا میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کو معاملے کا ابتدائی سرا مل جائے ۔ ابتدائی سرا جس کے ہاتھ میں آجاۓ وہ آخر کار انتہائی سرے تک پہنچ کر رہے گا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک 1799 میں شروع ہوئی جب کہ سلطان ٹیپو انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد انگریزوں سے لڑنا، انگریز شخصیتوں پر بم مارنا، ان پر حملہ کرنے کے لیے بیرونی حکومتوں کو ابھارنا، جیسے ہنگامے سو سال سے زیادہ مدت تک جاری رہے۔ اس قسم کی تدبیریں اپنی نوعیت میں پرشور تھیں ۔ چنانچہ ان کا نام آتے ہی انگریز فوراً چوکس ہو جاتا تھا اور ان کو پوری طاقت سے کچل دیتا تھا۔ اس کے بعد گاندھی میدان سیاست میں آئے تو اچانک صورت حال بدلی گئی۔ پچھلے لوگ ہنسا کے ذریعہ آزادی کا مطالبہ کرتے تھے، گاندھی نے اس کے برعکس آہنسا کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کو ایسی بنیاد پر چلانے کا اعلان کیا جو انگریزوں کو ناقابل لحاظ دکھائی دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader