حکمتِ امراض
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیابی کے ساتھ واضح کیا ہے۔ 12 جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے وہ اقلیت میں تھے۔ یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے، جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا رہا ہے۔ ٹوئن بی کے مطابق، اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش آتا ہے۔ یہ چیلنج، اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلے میں زیادہ کام کرے۔ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے ۔ حالات کا یہ دباؤ اقلیتی گروہ کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہیروانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ٹوئن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی اکیس تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔ فطرت کا یہی قانون ہندستانی مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔ 1947 سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے درمیان ایک موازنہ (بیلنس) قائم کیے ہوئے تھے۔ 15 اگست 1947 کو جب ہندوستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہو گئی اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے، جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔ ہندستانی مسلمانوں کے لیے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک چیلنج تھا۔ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر 1947 کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیر شعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔ اب یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا مسلمانوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader