Urdu book · تعمیر حیات

حکمتِ امراض

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

معاشی پچھڑاپن کیوں؟ یہاں مختلف مقررین نے اظہار خیال کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے کہ اس ملک کے مسلمان پچھڑ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ اس ملک کے تقریباً ہر مسلمان نے 1947 کے بعد ترقی کی ہے۔ میں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اور خود ہندوستان میں ایک اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک قسم کا خلاف زمانہ قول ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے پچھڑا ہوا گروہ بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا بیان بظاہر ہی قابلِ رد ہے۔ پھر میں نے اپنی تقریر میں حاضرین کو براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جو مسلمان اس ہال کے اندر موجود ہیں، ان میں سے ہر مسلمان کی اقتصادی حالت 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی کا معاملہ اس سے مختلف ہو تو وہ کھڑا ہو کر میرے اس بیان کی تردید کرے۔ حاضرین میں سے کسی ایک مسلمان نے بھی یہ نہیں کہا کہ 1947 میں میری جو معاشی حالت تھی اس کے مقابلے میں آج میری حالت خراب ہو چکی ہے۔ میں نے اس معاملے کا باقاعدہ سروے کیا ہے اور اپنی کتاب ”ہندوستانی مسلمان“ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان کا تقریباً ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم جماعت، ہر مسجد اور ہر مدرسہ 1947 کے مقابلے میں آج دس گنا اور چوگنا ترقی کر چکا ہے ۔ تقریباً ہر مسلم خاندان 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں ہندوستانی مسلمان 1947 کے مقابلے میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ یہ ترقی اتنا عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی مسلم خاندان کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس معاملے کی ایک چشم کشا مثال وہ ہے جو جولائی 1999 میں سامنے آئی۔ نیویارک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page