نظام فطرت
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
نظامِ فطرت یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کچھ مسائل میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ صبح و شام اس پر لکھتا اور بولتا رہتا ہے۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تمام مسائل اغیار کے ظلم و سازش کی پیداوار ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل اغیار کی سازشوں کا نتیجہ ہیں اور ان کا حل یہ ہے کہ ان سازشوں کے خلاف لڑائی کی جائے۔ مگر یہ صرف غلط فکری ہے، اور یہ غلط فکری ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے فطرت کے ایک قانون کو غیر قوموں کی سازش سمجھ لیا۔ حالاں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے بارش سے پیدا ہونے والی کیچڑ کا الزام انسانوں کو دیا جانے لگے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ دنیا میں انسانوں کے درمیان مقابلہ ہو، ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف چیلنج بنے۔ اسی نظام فطرت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے جھٹکا لگتا ہے کوئی شخص یا گروہ دوسرے کو دھکیل کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ نظام انسانی ترقی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں زد میں آنے والا گروہ اگر شکایت اور احتجاج کرے تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے اس کو چاہیے کہ وہ از سر نو اپنے آپ کو مستحکم بنائے۔ وہ صبر کے اصول کو اختیار کر کے اپنی تیاری کرے۔ وہ تلافی مافات کے اصول کو اختیار کر کے خود اپنے آپ پر عمل کرے۔ موجودہ زمانے میں نئی قوتیں ظاہر ہوئیں۔ مثلاً ٹکنالوجی، سائنٹفک ایجوکیشن وغیرہ۔ مسلمان ان نئی قوتوں میں دوسری قوموں سے بچھڑ گئے۔ اسی بنا پر ہر جگہ وہ دوسری قوموں کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ اب اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنی علمی اور عملی کمیوں کو دور کریں، یہاں تک کہ ان کا وجود دوسری قوموں کے لیے چیلنج بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader