تعمیر حیات
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی اس دنیا میں کامیابی کی واحد ممکن تدبیر ہے۔ جہاں تک موجودہ قسم کی احتجاجی سیاست یا مطالبا تی ہنگاموں کا تعلق ہے، اس سے مسلمانوں کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ خواہ ان کو مزید ایک سو سال تک جاری رکھا جائے ایسے احتجاجات انسان کے خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ وہ خالق فطرت کے خلاف ہیں اور کون ہے جو خالق فطرت سے لڑ کر کامیاب ہو۔ قانون فطرت ولیم پن (William Penn) 1644 میں لندن میں پیدا ہوا، 1718 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک ایسا لیڈر تھا جس نے مذہب اور سیاست دونوں میں حصہ لیا۔ وہ مذہبی رواداری کا زبردست حامی تھا۔ اس کا ایک قول یہ ہے کہ۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ کبھی وہ خود حکومت کریں گے اور کبھی ان کے اوپر حکومت کی جائے گی: Let the people think they govern and they will be governed. ولیم پن نے یہ بات تاریخ کے مطالعہ کی بنیاد پر کہی۔ مگر یہ سادہ طور پر محض تاریخ کی بات نہیں، وہ فطرت کا ایک عالم گیر قانون ہے جس کو خود خدا نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق اس دنیا میں قائم کیا ہے۔ خداوند عالم کا مقرر کیا ہوا یہ فطری قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاس (3:140) ۔ یعنی، ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ یہاں ایام یا دن سے مراد فتح و شکست اور غلبہ اور مغلوبیت کے دن ہیں۔ اس دنیا میں جس طرح دوسری تمام چیزیں امتحان اور آزمائش کے لیے ہیں، اسی طرح سیاسی اقتدار بھی آزمائش اور امتحان کے لیے ہے۔ چنانچہ وہ باری باری ہر گروہ کو دیا جاتا ہے تا کہ ہر ایک کی جانچ ہو سکے۔ اس دنیا میں حاکمیت کی حالت بھی برائے امتحان ہے اور محکومیت کی حالت بھی برائے امتحان۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader