Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

(biological tolerance) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک جسم حیوانی کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک چیز سے برا اثر لیے بغیر اس سے ربط کو یا جسم میں اس چیز کے داخل کیے جانے کو برداشت کرے: جسم کی اسی صلاحیت پر امراض کے علاج کا پورا نظام قائم ہے۔ بیماری کے وقت جسم کے اندر ایسی دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو مجموعی حیثیت سے جسم کے لیے مضر ہیں۔ مگر جسم خارجی چیزوں کے معاملے میں اپنی ساری حساسیت کے باوجود ایسی دواؤں کو برداشت کرتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ کرتا ہے۔ اسی حیاتیاتی ٹالرنس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ دوائیں جسم میں داخل ہو کر اپنا اثر دکھائیں۔ وہ جسم کے اعضاء پر برا اثر ڈالے بغیر اس کے بیمار عضو پر عمل کر کے اس کو اچھا کر سکیں۔ ٹالرنس کا یہی طریقہ انسانی سماج میں بھی مطلوب ہے۔ جنگل کے جانور جو کچھ اپنی جبلت (instinct) کے تحت کرتے ہیں۔ اور انسانی جسم جو کچھ اپنی فطرت کے تحت کرتا ہے۔ وہی انسان کو اپنے شعور کے تحت کرنا ہے۔ اس کو اپنے سوچے سمجھے فیصلے کے تحت ٹالرنس کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ حکمت معاملہ ایک تعلیم یافتہ مسلمان ایک سرکاری محکمہ میں اچھی سروس میں ہیں۔ ان کے افسر اعلیٰ سے ان کا جھگڑا ہو گیا۔ وہ گھر لوٹے تو ان کے دماغ میں سخت ٹینشن تھی۔ ان کو ڈر تھا کہ مذکورہ افسران کی سروس بک خراب کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں ان کا پروموشن رک جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page