بیان حقیقت
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو پیاس لگی ہوئی ہو۔ اس کو پانی کا ایک گلاس پیش کیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں کہ پانی کی اہمیت پر اس کے سامنے تقریر کی جائے یا علمی دلائل کے ذریعہ ثابت کیا جائے کہ پانی انسان کے لیے ضروری اور مفید ہے۔ آدمی کے اندر پانی کا احساس اس کو اس سے مستغنی کر دیتا ہے کہ وہ پانی کی اہمیت سمجھنے کے لیے دلیل کا طالب ہو۔ اسی طرح دین فطرت کا مجرد بیان بھی پوری طرح مؤثر ہو سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ فی الواقع بیان حقیقت ہو۔ اس میں کسی غیر فطری چیز کی آمیزش نہ کی گئی ہو۔ وہ اصل واقعے سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتا ہو کہ وہ معرفت فطری کا بے لاگ اظہار بن جائے۔ وہ اپنے صحت بیان کی بنا پر پورے معنوں میں فطرت انسانی کا منشی بن گیا ہو۔ ٹالرنس: فطرت کا اصول ٹالرنس (رواداری، برداشت) ایک یونیورسل اصول ہے۔ شیر اور ہاتھی دونوں انتہائی بڑے جانور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی دونوں ایک ساتھ جنگل میں رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹالرنس کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ جنگلوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف سے ہاتھی آرہا ہو اور دوسری طرف سے شیر گزر رہا ہو تو دونوں اپنا اپنا راستہ بدل کر دائیں اور بائیں سے نکل جاتے ہیں۔ اگر دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ نہ کریں تو دونوں آپس میں لڑنے لگیں، یہاں تک کہ دونوں لڑ کر تباہ ہو جائیں۔ شیر اور ہاتھی کو یہ طریقہ فطرت نے سکھایا ہے۔ اسی طرح انسان کے جسم میں فطرت نے ٹالرنس کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس کو حیاتیاتی ٹالرنس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader